ممبئی، 28/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹرا کے جالنہ میں ایک مولانا کو زدوکوب کرنے والے شرپسندوں و خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ مہاراشٹر کے جالنہ اناؤا گاؤں میں ایک مسجد کے خطیب کو شرپسندوں نے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کیااور جب امام مولانا ذاکر نے نعرہ لگانے سے انکار کیا تو ان کی پیٹائی کی گئی اور زودوکوب کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی داڑھی تک کاٹی گئی ہے۔
بتایا گیا ہے کہ گزشتہ شب مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد جب مولانا موصوف مسجد سے باہر نکلے تو بھگوا رنگ کا گمچھا پہنے تین نامعلوم شرپسندوں نےمولانا کو پکڑ لیا اور ان سے جئے شری رام کے نعرہ لگانے پر مجبور کیا ۔ انہوں نے انکار کیاتو مولانا کوزدوکوب کیا اور ان کے سر پر لکڑی سے حملہ کر دیا ۔
واضح رہے کہ ان تینوں حملہ آوروں نے منہ پر کپڑا ڈھانپ رکھا تھا اس لئے ان کی شناخت نہیں ہو پائی ۔ بتایا گیا ہے کہ شرپسندمولانا کو بے ہوشی اور زخمی حالت میں بیچ سڑک پر چھوڑ کر فرارہوگئے ، بتایا گیا ہے کہ مولانا کی داڑھی بھی کاٹی گئی ہے اور انہیں شدید زخمی حالت میں اورنگ آباد کے اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ اس واقعہ سے گاؤں میں کشیدگی پھیل گئی ہے اور حالات پر قابو پانے کے لئے پولس نے یہاں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق واقعے کے بعد مولانا کے والد محترم کو گھر میں ہی نظر بند کر دیا گیا ہے اور ان کے گاؤں سے باہر نکلنے پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اس معاملہ میں پولس نے معاملہ درج کر لیا ہے لیکن شرپسند پولس کی گرفت سے دور ہیں ۔
رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے وزیر اعلی ایکناتھ شندے ، نائب وزیر اعلی دیویندر فڑنویس اور پولس ڈی جی پی رجنیش سیٹھ سے مطالبہ کیا ہے کہ ا س معاملہ میں سخت کارروائی کی جائے۔